18

قربانی اور عید الضحی

 

قربانی اور عید الضحی

اللہ پاک نے قربانی کا حکم دیتے ہوئے قرآنِ کریم میں اِرشاد فرمایا

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ (پارہ30 ،سورۃ الکوثر : 2)
توتم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ) ترجَمۂ کنز الایمان(
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ
(پارہ 8 ، سورۃ الانعام : 162)
تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے.جو رَبّ سارے جہان کا۔ ترجَمۂ کنز الایمان
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں صَحابۂ کِرام(رضی اللہُ عنہم ) نے عرض کى کہ ىہ قربانىاں کىا ہیں؟
تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرماىا سُنَّةُ اَبِیْكُمْ اِبْرَاھِیْم۔ (ابن ماجہ ، 3 / 531 ، حدیث : 3127)
( یعنی قربانی کرنا) تمہارے باپ ابراہىم علیہ السّلام کا طرىقۂ کار ہے
ایک اور حدیث ِ پاک میں ہے :
جو قربانى کى وُسعت رکھتا ہو اور قربانى نہ کرے تو وہ ہمارى عىد گاہ کے قرىب نہ آئے۔ ( ابن ماجہ ، 3 / 529 ، حدیث : 3123)
قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُس کے پیارے رَسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دیا ہے اور یہ چند شرائط کے ساتھ مسلمان پر واجِب ہوتی ہے اس لیے ہم قربانی کرتے ہیں اور اِن شاءَ اللہ کرتے رہیں گے۔

اُدھار لے کر قربانى کرنا

اگر قربانى واجب نہىں ہے تو اُدھار لے کر قربانى کرنا ضرورى نہىں ہے۔ صرف قربانى کرنے کے لىے قرضہ نہ لىا جائے لیکن اگر قربانى کى تو ثواب ملے گا۔
اگر قربانى واجب ہے اور تنخواہ نہی ملی یا پىسے نہىں ہىں کاروبارمىں لگے ہوئے ہىں ىا کوئى مال خریدا ہوا ہے جسے بىچنا نہیں چاہتے اور آسانی سے قرض اتار سکتے ہیں تو اب اگر کسی سے پیسے اُدھار لے کر قربانى کر لى تو حرج نہىں ہے ۔

قربانی کا گوشت اگر کوئی سال بھر تک کھانا چاہے تو کھا سکتا ہے یہ جائز ہے
قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصّے کرنے مُسْتَحَب ہیں۔

ایک حصّہ قربانی کرنے والا اپنے اِستعمال میں رکھے
ایک حصّہ رِشتہ داروں میں تقسیم کر دے
ایک حصّہ غریبوں میں بانٹ دے
تو یہ مُسْتَحَب ہے۔ (بہارشریعت ، 3 / 344 ، حصہ : 15۔ فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 300)

قربانی کے جانور کے گوشت کے تقسیم

قربانی کے گوشت کو
پورابکرا خود رکھ سکتا ہے
پورا بکرا بانٹ سکتا ہے
بکرا ایک ساتھ کسی کو اُٹھا کر دے سکتا ہے
یہ سب صورتیں بھی جائز ہیں

قربانی کے لئے جانور کی کم  از   کم     عمر

قربانی کے لئے جانور کی عمر پوری ہونی چاہیے۔ ان کی قربانی جائز ہے اگرچہ انہوں نے دانت نہ نکالے ہوں ۔
کم از کم عمر:
اُونٹ: 5 سال
گائے: 2 سال
بکرا ، بکری: 1 سال
دُنبہ ، دُنبی: 1 سال
اور بھیڑ: 1 سالٍ
بڑے جانور(گائے ، بھینس) کی عمر 2 سال اور اونٹ کی عمر 5 سال ہونا ضَروری ہے

اگر ان میں ایک دِن بھی کم ہوگا تو قربانی نہیں ہو گی
(اَلبتّہ اگر دُنبہ دُنبی یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اتنا بڑا ہو کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو

توا س کی قربانی بھی جائز ہے بکرے اور بکری میں ایسا نہیں ہو گا یہ رِعایت صرف Sheep میں ہے)

یاد رکھیے ! قربانی جائز ہونے کے لیے دانت کا نکلنا ضروری نہی بلکہ عمر کا پورا ہونا ضَروری ہے۔
جو جانور آزاد ہوتے ہیں اور گھوم پھر کر چَرتے اور نوچ نوچ کر گھاس کھاتے ہیں وہ دانتوں سے

گھاس کھینچتے رہنے کے وجہ سے قربانی کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی دانت نکال دیتے ہیں
اور جو جانور بندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ بسااوقات عمر پوری ہونے کے باوجود دانت نہیں نکال پاتے۔

قربانی کا جانور کوئی بھی ہو ، گائے ہو یا بکرا چار دانت کا ہونا چاہیے
پورے سال بھر کا ہونےکے بعد بھی بچہ لگتا ہو تو کوئی حرج نہیں قربانی ہو جائے گی بشرطیکہ اس میں کوئی اور نقص نہ ہو
(در مختار ، کتاب الاضحیۃ ، 9 / 533ماخوذا)

بعض بیوپاری جانوروں کے عمر بتانے میں یا دانت دِکھاتے ہوئے دھوکا دہی سے کام لیتے ہیں اس لیئے اِعتماد والے بیوپاری سے لینا چاہیئے کہ وہ جانور کی عمر بتانے میں جھوٹ نہیں بولتا۔اگر آپ خود جانتے ہیں تو بہتر ورنہ کسی جان پہچان والے بندے کو ساتھ لے جائیں ۔ جانور خریدتے وقت تجربہ کار آدمی کا ساتھ ہونا بہت مُفید ہے

قربانی عید کے تین (3) دِنو ں میں کرنا جائز ہے۔ لیکن پہلے دِن قربانی کرنا افضل ہے۔ عِیْدُ الْاَ ضحیٰ کے دِن جانور ذَبح کرنے سے افضل کوئی عمل نہیں ہے ۔ اس لیئے اگرکوئی مجبوری نہ ہو تو پہلے دِن ہی قربانی کی جائے

سُنَّت طریقہ ہے کہ ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں حصّے گردن کے قریب پہلو پر رکھے۔ طبی لحاظ سے جانور جتنا زیادہ ہاتھ پاؤں مارے گا اتنا ہی مُضِر صحت خون بہہ جائے گا ۔ رَسیوں سے باندھ کر ، جانور کو بے جا تکلیف دینے کی ہرگز اِجازت نہیں ۔ جو لوگ بکرے کی گردن چٹخا دیتے ہیں یا بڑے جانور کی چھرا گھونپ کر دِل کی رَگیں کاٹ دیتے ہیں یا ذَبح کرتے ہوئے ہڈی پر چھری مارتے ہیں تو انہیں اس سے بچنا ضَروری ہے۔

قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے ان بالوں کونہ تو وہ اپنے اِستعمال مىں لا سکتا ہے اور نہ ہی کسى غنى کو دے سکتا ہے بلکہ ان بالوں اور اُون وغیرہ کو کسی شَرعی فقىر پر صَدَقہ کرنا ہو گا۔

قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے ان بالوں کونہ تو وہ اپنے اِستعمال مىں لا سکتا ہے اور نہ ہی کسى غنى کو دے سکتا ہے بلکہ ان بالوں اور اُون وغیرہ کو کسی شَرعی فقىر پر صَدَقہ کرنا ہو گا۔

اگر ذَبح کے وقت دُشواری پیش آ رہی ہو تو اس کے لیے پورے گلے کے بال کاٹنے کی ضَرورت نہیں بلکہ گلے پر پانی وغیرہ ڈال کر جگہ بنائی جا سکتی ہے۔

قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے ان بالوں کونہ تو وہ اپنے اِستعمال مىں لا سکتا ہے اور نہ ہی کسى غنى کو دے سکتا ہے ۔بلکہ ان بالوں اور اُون کو کسی فقىر کو بطور صَدَقہ کر دے

اگر ذَبح کے وقت دُشواری پیش آ رہی ہو تو اس کے لیے پورے گلے کے بال کاٹنے کی ضَرورت نہیں بلکہ گلے پر پانی وغیرہ ڈال کر جگہ بنائی جا سکتی ہے ۔

جانور ذَبح کرنے کے لیے باوُضو ، نمازی اور داڑھی والا ہونا شَرط نہیں لہٰذا اگر داڑھی مُنڈے ، بے وُضو اوربے نمازی شخص نے بھی جانور ذَبح کیا تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا ۔

یعنی ذَبح کرنے والے کا مَرد ہونا بھی شَرط نہیں ، عورت یا سمجھ دار بچہ بھی ذَبح کر سکتے ہیں اَلبتہ جو بھی ذَبح کرے اُسے ذَبح کے وقت اللہ کا نام لینا ضَروری ہے ۔ ( درمختار مع ردالمحتار ، 9 / 496 ماخوذا) اگر کسی نے جان بوجھ کر اللہ کا نام چھوڑ دیا مثلاً دو آدمی مِل کر ذَبح کر رہے تھے ، ایک نے یہ سوچ کراللہ کا نام نہ لیا کہ دوسرے نے کہہ دیا ہے میرا کہنا ضَروری نہیں تو جانور مُردار ہو جائے گا ۔ (درمختار مع ردالمحتار ، 9 / 499)

ذَبح کے وقت “ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر “ کے اَلفاظ کہنا بہتر ہے شَرط نہیں لہٰذا اگر کسی نے فقط لفظ “ اللہ “ کہہ کر چھری چلا دی تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 285)

اگر بھولنے کے سبب اللہ کا نام نہ لیا تب بھی جانور حَلال ہو جائے گا ۔ (ہدايہ ، 2 / 347)

آپ کتنا کماتے ہیں۔ آپ کی آمدنی کتنی ہے؟یہ بنیاد نہیں ہے بلکہ بنیاد یہ ہے کہ 10ذُو الْحِجَّۃِ الْحَرام کی صبحِ صادق (سے لے کر 12 ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام کے غروبِ آفتاب تک)کے وقت میں جو غنی ہو یعنی ضَروریات کے علاوہ اس کے پاس نصاب کے برابر رقم وغیرہ موجود ہو اور قرض میں گِھرا ہوا بھی نہ ہو تو قربانی واجب ہو گی

قربانی کا نصاب ىہ ہے
سونا: ( 71/2) ساڑھے ساتولہ
چاندی: (521/2) ساڑھے باون تولہ
اس کے برابر رقم ہو ىا بىچنے کا اتنا سامان موجود ہو جو ( 71/2) ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے یا (521/2) ساڑھے باون تولے چاندى کى رقم کو پہنچ جائے
گھر مىں ضرورت کے علاوہ اتنا سامان رکھا ہے جو ( 71/2) ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے (521/2) ساڑھے باون تولے چاندى کے برابر ہو تو اس صورت میں بھی قربانى واجب ہو جائے گى ۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 292- بہارِ شریعت ، 3 / 333 ، حصہ : 15)

یہ بھی خیال رہے کہ اِبتدائے وَقت میں (10 ذُوالْحِجَّہ کی صبح )اس کا اَہل نہ تھا قربانی کی شرائط نہیں پائی جاتی تھی اور آخر وَقت میں (یعنی12 ذُوالْحِجَّہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے ) اَہل ہوگیا تو اُس پر قربانی واجِب ہو گئی ۔

اور اگر اِبتدائے وَقت میں اہل تھا اور ابھی(قربانی ) نہیں کی اور آخر وَقت میں اس کا اہل نہ رہا یا قربانی کی شرائط جاتی رہی تو (قربانی )واجِب نہ رہی ۔ (بہارِ شریعت ، 3 / 334 ، حصہ : 15)

بندہ جو جانور خود پالتا ہے اس سے اُنسیت ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات جانور سے اَولاد کی طرح پیار ہوجاتا ہے ، اسے ذَبح کرنا نفس پر گِراں گزرتا ہے اور دِل پر ایک صَدمے کی کیفیت ہوتی ہے اگر اسے بیچ دیا جائے گا تو یہ کیفیت نہیں ہوگی ۔ نیز ا س کو بیچ کر دوسرا جانور لیا جائے تو اس سے زیادہ اُنسیت اور پیار نہیں ہوگا اور اس کو کاٹنے سے نفس پر اتنا بوجھ بھی نہیں ہو گا لہٰذا جو جانور خود پالا ہے اسی کو ذَبح کرے ۔

اِیصالِ ثواب کے لیے والدین کی طرف سے قربانی کرنے میں کوئ حرج نہی ہے ۔ والدین زندگی میں قربانی کرتے تھے یا نہیں تب بھی اِیصالِ ثواب کے لیے قربانی کرنے میں حرج نہیں ۔ نیز زندہ کے اِیصالِ ثواب کے لیے بھی قربانی ہوسکتی ہے

قربانی کے جانور کو ضرورت ہو تو نہلایا جاسکتا ہے ۔

قربانی کے دِن گزر گئے اور (واجب ہونے کی صورت میں)قربانی نہیں کی نہ جانور اور اس کی قیمت صَدقہ کی یہاں تک کہ دوسری بقرہ عید آگئی اور اب یہ چاہتا ہے کہ گزشتہ سال کی قربانی کی قضا اس سال کرلے تو یہ نہیں ہو سکتا ۔ ( فتاویٰ ہندیہ ، 5 / 297-296)

یاد رَکھیے! قربانی کے لیے ضَروری نہیں کہ ڈھائی لاکھ والا جانور ہی لایا جائے بلکہ حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ بہرحال قربانی واجب ہو تو کرنا ضَروری ہے اگر جان بوجھ کر نہ کی تو بندہ گناہ گار ہوگا

۔ قربانی کا جانور ہو یا بغیرقربانی کا ، اس کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں گھنگرو باندھنا اگر بغیر کسی ضرورت کے ہو تو مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے ۔فائدہ ہو تو بلاکراہت جائز اور اگر کوئی مَنْفَعَت نہیں تو مکروہ ِتنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے مگر جائز ہے ۔ “ یاد رہے! قربانیوں کی رونقیں دَارُ الْاِسْلَام میں ہوتی ہیں تو یہ مسئلہ بھی دَارُ الْاِسْلَام کے متعلق ہے جبکہ دَارُ الْحَرْب کی الگ صورتیں ہیں ۔ اَلحمدُلِلّٰہ! پاکستان دَارُ الْاِسْلَام ہے اور اس کے علاوہ بھی بے شمار مَمالک دَارُ الْاِسْلَام ہیں اگر چہ اُن میں بھاری تعداد کفار کی ہوتی ہے مگر وہ دَارُ الْاِسْلَام کی تعریف میں آتے ہیں ۔

جتنے افراد ہوں اتنی ہی قربانیاں کرنا ہوں گی ۔ بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کر دیتے ہیں اس طرح کسی کی بھی قربانی نہیں ہوتی ۔ ایک بکرے میں ایک فرد کی قربانی ہو سکتی ہے۔ بڑے جانور گائے ، بھینس یا اونٹ لے لیا جائے تو وہ سات اَفراد کی طرف سے قربان کیا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

قربانی اور عید الضحی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں